جمعہ 30 جنوری 2026 - 01:25
’’ہمنتا بسوا سرما’’ جیسے نفرت کے سوداگروں اور بدزبانوں کو لگام دینا حکومت کی ذمہ داری: مولانا تقی عباس رضوی کلکتوی

حوزہ/اہل بیت فاؤنڈیشن ہندوستان کے نائب سربراہ مولانا تقی عباس رضوی نے کہا کہ آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما کا مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک، نفرت انگیز اور متنازعہ بیان پر ملک کی اعلیٰ عدلیہ کو اپنا واضح مؤقف اختیار کرنا چاہیے، تاکہ ملک میں باہمی امن و خیر سگالی، گنگا جمنی تہذیب، بھائی چارہ اور پیار ومحبت کی فضا قائم رہ سکے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اہل بیت فاؤنڈیشن ہندوستان کے نائب سربراہ مولانا تقی عباس رضوی نے کہا کہ آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما کا مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک، نفرت انگیز اور متنازعہ بیان پر ملک کی اعلیٰ عدلیہ کو اپنا واضح مؤقف اختیار کرنا چاہیے، تاکہ ملک میں باہمی امن و خیر سگالی، گنگا جمنی تہذیب، بھائی چارہ اور پیار ومحبت کی فضا قائم رہ سکے۔

مولانا تقی عباس رضوی نے کہا کہ ملک میں موجود ہمنتا بسوا سرما جسے نفرت پرور لوگوں پر کاروائی کا نہ ہونا نہ صرف انہیں جَسور بناتا ہے، بلکہ عدالتی عمل کے بنیادی اصولوں پر بھی سوالیہ نشان پیدا کرتا ہے، لہذا حکومت ایسے نفرت پرور لوگوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے قانون کی طاقت کا استعمال کرے۔

مولانا نے مزید کہا کہ یہ ملک باہمی رواداری، خیر سگالی اور امن و بھائی چارہ کا ملک ہے نفرت کی سیاست کو ہندوستانی باشعور عوام مستقل طور پر کبھی برداشت نہیں کرسکتے؛ آج ملک میں جس طرح مسلمانوں کے مدرسوں، مساجد اور غریبوں کی بستیوں پر جو بلڈوزر چلائے جا رہے ہیں، تاریخ کا قلم اس کو درج کرتا جارہا ہے۔ ہاں آج مسلمانوں کے خلاف ظلم و زیادتی، نا انصافی اور نفرت انگیز بیان بازی ایک چلتا ہوا سکہ ہے جس سے آپ ووٹ بٹور رہے ہیں یہ کھوٹا سکہ ہے، زیادہ عرصہ تک نہیں چلے گا۔

اہل بیت فاؤنڈیشن کے نائب سربراہ مولانا تقی عباس صاحب رضوی نے کہا کہ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ نفرت کی سیاست ملک سے وفاداری نہیں، بلکہ اس کے امن و چین سے غداری ہے۔ہمارا ملک گنگا جمنی تہذیب کا علمبردار ہے ۔آسام کے مکھ منتری بسوا سرما کی مسلمانوں کے خلاف نفرت آمیز تقاریر و بیانات در حقیقت اس دستوارت و آئین کی توہین ہیں جس کی شپت کے بعد وہ اس منصب پر براجمان ہیں۔آئین ھند کی توہین پورے ملک کی توہین ہے ۔ملک کسی ایک سمودائے کی توہین یا نفرت سے نہیں، بلکہ محبت سے چلتا ہے۔ اس ملک کے تمام باشندے گلدستے کی مانند ہیں ۔ گلدستے کا ایک پھول مرجھا جائے یا نکال دیا جائے تو گلدستے کی خوبصورتی ختم ہوجاتی ہے۔نفرت کا مقابلہ نفرت سے نہیں محبت سے ہی کیا جاسکتا ہے موجودہ مشرق وسطی کے بگڑتے سیاسی ماحول اور وطن عزیز میں بڑھتی مہنگائی، بے روزگاری اور تیزی سے فروغ پاتے مذہبی تعصب کے پیشِ نظر اسے نفرت کی نہیں محبت کی ضرورت ہے!اس کی تعمیر وترقی کے لئے ذات پات اور دین دھرم کا نہیں، بلکہ قانون و آئین کا سہارا لینا ضروری ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha